Aatish e Zan by Barerah Arslan | Complete Novel0090 PDF Download Available

Aatish e Zan by Barerah Arslan is an ongoing psychological thriller portraying a rape survivor’s battle with trauma, societal pressure, and the legal system in her fight for identity and justice.

Aatish e Zan by Barerah Arslan

Story Name: Aatish e Zan 
Writer Name: Barerah Arslan
Genre: Psychological thriller, Rape Victim.
Status: Complete
Writer Instagram ID: @bareraharslan
Description:
یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی ، جو جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہے اور یہ حادثہ اس کی زندگی اور اس کے تصورِ دنیا کو تبدیل کر دیتا ہے۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی! یہ تو محض آغاز ہے ، اس چیز کو پا لینے کا جو کبھی اس کی ہوا کرتی تھی۔  یہ ایک عورت کی جنگ کی داستان ہے اس نظام کے خلاف جو فقط ان کی خاموشی اور بیچارگی کو قبول کرتا ہے۔

Summary Of Aatish e Zan

Aatish e Zan by Barerah Arslan is a gripping psychological thriller that sheds light on the devastating impact of sexual violence and the silent battles survivors are forced to fight. This novel is not confined to a single tragic incident; instead, it explores the long-lasting psychological, social, and legal consequences that follow.

The story revolves around a young woman whose life is violently altered after she becomes a victim of rape. The trauma does not only scar her body but fractures her sense of identity, trust, and reality. In Aatish e Zan by Barerah Arslan, the incident marks the beginning of an intense internal and external struggle rather than its conclusion.

As the protagonist grapples with fear, guilt, and emotional disorientation, she is also crushed under societal pressure. A society that demands silence, questions the survivor instead of the criminal, and treats honor as more valuable than justice becomes her biggest enemy. The novel powerfully portrays how survivors are often expected to endure quietly, sacrificing their truth for social comfort.

Aatish e Zan by Barerah Arslan delves deep into psychological turmoil panic attacks, isolation, suppressed rage, and the slow erosion of self worth while also highlighting the exhausting legal aftermath that tests a survivor’s endurance at every step. The justice system appears less as a refuge and more as another battlefield.

What sets Aatish e Zan by Barerah Arslan apart is its focus on resistance and reclamation. This is the story of a woman’s war against a system that only accepts her broken silence, not her voice. Through pain, confrontation, and self-realization, she begins the journey to reclaim the part of herself that was stolen questioning whether healing means returning to who she was, or becoming someone stronger.

Dark, intense, and emotionally unsettling, Aatish e Zan by Barerah Arslan is a necessary read that confronts harsh realities with courage and psychological depth.

Writer Introduction

Barerah Arslan is an emerging Urdu fiction writer known for her bold storytelling and psychologically layered narratives. She focuses on uncomfortable social realities, trauma, and systemic injustice, presenting them with emotional honesty and depth. Through Aatish e Zan by Barerah Arslan, she establishes a strong voice in the psychological thriller genre, challenging silence, victim-blaming, and societal hypocrisy.

 

Read Other Categories

!اسلامُ علیکم

بازار آف ناولز پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہمارے پلیٹ فارم کا مقصد قارئین تک اردو ادب کا بہترین مواد پہنچانا ہے۔ بہترین ناولز کی پی۔ڈی۔ایف کے لیے ہماری ویب سائٹ  ضرور وزٹ کریں۔

اگر آپ لکھاری ہیں اور بہترین مواد لکھتے ہیں ، جو بےحیائی سے پاک اور عمدہ کونٹینٹ پر مبنی  ہوتا ہے، لیکن آپ کے کام کو پذیرائی نہیں ملتی تو اپنا لکھا ہمیں ضرور بھیجیں۔ بازار آف ناولز کو آپ جیسے لکھاریوں کی اشد ضرورت ہے۔ آپ ہم  تک دیے گئے پلیٹ فارمز کے ذریعےپہنچ سکتے ہیں۔ 

Website     :     www.baazarofnovels.com

Gmail         :     baazarofnovels@gmail.com

Instagram   :     @baazarofnovels

WhatsApp  :     +92 3158473374

Aatish e Zan by Barerah Arslan

Sneak Peak

✦✧✦⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯✦✧
’’بابا  جب وہ لڑکا میرے ساتھ زیادتی کر رہا تھا تو مجھے بہت تکلیف ہو رہی تھی۔‘‘ اس نے اچانک کہنا شروع کیا۔ وہ ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر  کر ادا کر رہی تھی ، اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے ، آنکھیں ساکن سی چھت کو تک رہی تھیں۔ ’’وہ کہہ رہا تھا وہ مجھے جان سے مار دے گا ، وہ مجھے گالیاں دے رہا تھا بابا ، وہ میرا گلا گھونٹ رہا تھا۔۔۔ میں ڈر گئی تھی بابا! ‘‘ اس کے چہرے کا ریشہ ریشہ تکلیف سے نچڑ گیا ۔ ’’لیکن آپ کو پتا ہے  میں نے اس وقت اللّٰہ سے کیا دعا کی تھی؟‘‘ اس کی آواز آہستہ آہستہ مدھم ہو رہی تھی۔  علیزہ نے سختی سے آنسو پونچھے۔ ’’جب وہ مجھے مار رہا تھا بابا ، میں اس وقت زندگی کی دعا کر رہی تھی۔۔۔ میں مرنا نہیں چاہتی تھی ، میں جینا چاہتی تھی۔ میں نے اس لمحے اللّٰہ سے اس دن تک کی زندگی مانگی تھی جب تک میں اسے ویسے  ہی بے بس نہ کر دوں جیسے اس نے مجھے کیا تھا۔‘‘ کہہ کر اس نے آنکھیں واپس موند لیں ، ایک آنسو آنکھ سے گر کر تکیے میں جذب ہو گیا۔ بابا کے لیے مزید کچھ سننا ممکن نہ رہا۔ وہ آہستہ سے اٹھے، آنکھوں میں نمی لیےوہ  کمرے سے باہر نکل گئے اور  سیدھے اسپتال کے اُس کارنر پر گئے جہاں عدیلہ کا ڈی این اے سیمپل جمع ہوا تھا۔ ’’میری بیٹی کی رپورٹ کہاں ہے؟‘‘ بابا نے بنا تمہید باندھے، سیدھے اور سخت لہجے میں پوچھا، ان کی نگاہ ڈاکٹر پر نہیں تھی۔ ’’ہم نے رپورٹ لے لی ہے ، آپ کی بیٹی کو انصاف ملے گا۔‘‘ وہ آواز کہیں پیچھے سے آئی تھی ، بابا نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ ان کی نظریں فوراً اس عورت پر جا ٹھہریں جو ایمرلڈ رنگ کی پیروں تک آتی قمیض اور شلوار میں ملبوس، پورے اعتماد اور وقار کے ساتھ ان کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ یہ الماس سلیمان تھیں ، وہی چہرہ جو ٹی وی پر خواتین کے حقوق کی علمبردار کے طور پر جانا جاتا تھا۔گلے میں پرلز کا نازک ہار، ہاتھ میں کارٹئیر کی وائٹ گولڈ  اور ہیرے کی گھڑی، اور کہنی پر برکن بیگ ٹکائے  وہ قدم قدم چلتی ان دونوں کے ساتھ آن رکی۔ ’’آپ کی بیٹی کے ساتھ جو بھی ہوا ، وہ نہایت قابلِ افسوس ہو۔میری آرگنائزیشن ریپ سروائیورز کو مکمل سپورٹ کرتی ہے۔ اس جنگ میں آپ اکیلے نہیں ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ جس نے بھی یہ ظلم کیا ہے، ہم اسے باقی سب کے لیے عبرت کا نشان بنائیں گے۔‘‘ اس بات پر بابا چند لمحے خاموش کھڑے رہے اور پھر کپکپاتی آواز میں بولے۔ ’’ آپ کے بیٹے نے زیادتی کی ہے ، میری بیٹی کے ساتھ۔‘‘ ایک پل کے لیے خاموشی چھا گئی۔ مگر الماس سلیمان کے چہرے پر ذرّہ برابر تاثر نہ بدلا۔ ’’ہمارے پاس رپورٹ ہے۔ جس نے بھی یہ کیا ہو گا ،  اسے سزا ضرور ملے گی۔‘‘وہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے بولیں ، جو سامنے کھڑے شخص کا خون کھول دینے کیلئے کافی تھی۔ پھر وہ اسی  سکون اور اعتماد سے مڑیں اور واپس چلی گئیں ۔ جیسے اُن پر الزام نہیں، کسی اور پر لگا ہو۔ ’’مجھے میری بیٹی کی رپورٹ چاہیے۔‘‘ چند لمحے خاموش رہنے اور خود کو سنبھالنے کے بعد عدیلہ کے بابا نے دھیمے مگر پختہ لہجے میں ڈاکٹر سے کہا۔ اس ڈاکٹر نے فوراً اثبات میں سر ہلایا اور رپورٹ لانے کے لیے پلٹیں مگر اتنے میں اسپتال کے لاؤنج میں نصب
Scene : 1
ٹی وی اسکرین پر ایک چینل کی ’’بریکنگ نیوز‘‘نے ان کے رونگھٹے کھڑے کر دیے۔
بے غیرت مرد ایک بے دھاری تلوار کی مانند ہے۔‘‘ الماس سلیمان نے مسکر اکر کہا، اب کے عدیلہ کی آنکھیں چمکیں اور وہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے گویا ہوئی۔ 
’’اوہ اچھا! اور  بے غیرت عورت؟  رکیں ، مجھے سوچنے  دیں۔ بے غیرت عورت ایک تیز دھاری تلوار کی مانند ہوتی ہے ، جو سب کو کاٹنے کو دوڑتی ہے۔ ‘‘ وہ اب کے الماس سلیمان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔ ایک آنکھ میں شعلہ بھڑک اٹھا تھا اور دوسری میں بجھ چکا تھا۔
’’تم مجھے بے غیرت کہہ رہی ہو؟‘‘ انہیں جیسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ مسکراہٹ جیسے غائب ہو گئی۔ بس اتنا سا ہی قابو تھا، ان کا اپنے جذبات پر۔ 
’’آپ اپنی خود خیالی مجھ پر مسلط کر رہی ہیں۔‘‘ عدیلہ نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔ اب باری اس کی تھی۔ 
’’تم اپنی زبان سنبھال کر رکھو۔‘‘ الماس سلیمان مارے اشتعال  بھڑک اٹھیں۔ 
’’اور آپ اپنی لگامیں بھی ، نہیں تو ایسا منہ کے بل گریں گی کہ نہ غرور بچے گا اور نہ یہ لاکھوں کا چہرہ۔‘‘ کہہ کر وہ پلٹ گئی۔ کارڈ ابھی بھی ہاتھ میں تھا۔
 
Scene no. 02
علیزہ!‘‘ وہ کہنے ہی والی تھی کہ ایک زور دار طمانچہ اس کے گال پر آ لگا۔ آنکھوں کے  کٹوروں میں ٹھہرے آنسو بہہ نکلے۔’’یہ سب تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے عدیلہ! تمہاری وجہ سے۔‘‘ وہ حلق کے بل دھاڑے تھے۔ عدیلہ بے یقینی سے اپنی گال پر ہاتھ رکھے انہیں دیکھتی رہی۔ اسے جیسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا ہو۔۔۔ اسے اُس لمحے کی حقیقت پر شک ہوا ہو! 
’’ہم نے بکواس کی تھی کہ مت پڑو اس چکر میں۔ خود تو ذلیل ہو ہی ، ہمیں بھی تم نے ذلیل کر دیا ہے۔تمہاری وجہ سے ۔۔۔ عدیلہ۔۔۔ تمہاری وجہ سے۔۔۔ علیزہ کھو گئی ہے۔‘‘ 
اور۔۔۔ ایک اور طمانچہ!مگر اس بار نہ ہاتھ اٹھا تھااور  نہ ہی گال سُلگا تھا،یہ زخم لفظوں نے دیا تھا، ضرب دل پر لگی تھی اور لہولہان روح ہوئی تھی۔۔۔
اس نے بےاختیار اپنا سینہ مٹھی میں جکڑ لیا۔ ایک ہی دل تھا، آخر وہ کتنی ہی بار ٹوٹ سکتا تھا؟ اور ہر بار ٹوٹنے کی تکلیف پہلے سے زیادہ کیسے ہو سکتی تھی؟
’’کاش تم اس دن مر گئی ہوتیں۔ کم از کم ہمیں کہیں سے تو چین مل جاتا۔‘‘یہ کہہ کر بابا اسے پرے دھکیلتے ہوئے اندر بڑھ گئے۔
Scene no. 03:
 
بتاؤ، تمہیں کتنے پیسے چاہییں؟‘‘وہ جیسے منہ مانگی رقم دینے کا فیصلہ پہلے ہی کر چکی تھیں۔
’’بیس ہزار۔‘‘ عدیلہ سرد سے انداز میں گویا ہوئی۔ 
’’بیس ہزار؟‘‘ الماس سلیمان نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا، پھر زور کا قہقہہ لگا کر ہنس پڑیں۔ عدیلہ بدستور خاموش رہی۔
’’میں تمہیں بیس ہزار کے بجائے بیس لاکھ دوں گی۔‘‘ ان کے لہجے میں دولت کا غرور صاف جھلک رہا تھا۔
’’آپ نے منہ مانگی رقم کا وعدہ کیا تھا،‘‘عدیلہ نے سنجیدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا،’’مکریے نہیں۔۔۔میں بیس ہزار مانگ رہی ہوں، اور مجھے بیس ہزار ہی چاہییں۔‘‘
’’بیس ہزار میں آتا ہی کیا ہے؟‘‘ وہ محظوظ انداز میں گویا ہوئیں۔ 
’’بہت کچھ!‘‘ عدیلہ کے مختصر جواب پر الماس سلیمان ایک بار پھر ہنس دیں۔
Scene no. 04:
علیزہ اس کے ساتھ کوئی جوتے میچ کر دو۔‘‘ قمیض شلوار کو سینے سے لگائے، اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو علیزہ کے ماتھے پر سلوٹیں پڑ گئیں۔ لب خوشگوار سی مسکان میں ڈھل گئے۔
’’کیوں؟ کیا کرنے ہیں؟‘‘ شکی نگاہوں سے گھورتے ہوئے پوچھا۔
’’پہننے ہیں۔‘‘ عدیلہ ادا سے بولی۔
’’اوہ واؤ! پہننے ہیں، مجھے لگا شاید سر پر مارنے ہیں۔‘‘
Click Here To Read Online👇🏼
 

/p>

 

Click Here To Download 👇🏼

READ OTHER NOVEL

Instagram , Pinterest , Facebook , Youtube

    Read Other Writers

        Our Purpose

          Baazar of Novels strives to provide passionate readers with top-notch Urdu literature, offering a handpicked collection of short Urdu novelslong Urdu novels, and digest novels in Urdu. We believe that a well-crafted story has the power to influence hearts and minds differently for each individual. That’s why we choose online novels that not only spark the imagination but also reflect maturity, depth, and cultural richness.

            Our Commitment

              We maintain high standards for the quality of all the Urdu novels PDF we share. Every complete Urdu novel on our website is carefully reviewed by our team of dedicated readers to ensure a refined and enjoyable reading experience. As a trusted source of website based Urdu novels, we aim to give you the confidence that you are reading something truly worthwhile.

                What Sets Us Apart

                  Unlike many platforms, we do not promote vulgar or explicit material. Our aim is to provide meaningful, engaging, and clean romantic Urdu novels that touch on social issues, love, and values. Our dedication to preserving the beauty of Urdu literature makes Baazar of Novels a reliable and inspiring space for readers looking for genuine Urdu online novels.

                    Join Our Community

                      Whether you’re a fan of short storieslong novels, or classic digest novels in Urdu, we invite you to become part of our growing community. From online novels to Urdu novels 2025, we offer a rich collection suitable for both new and experienced readers. Discover the magic of words through our carefully selected free Urdu novels download collection.

                        Conclusion

                          We’d love to hear from you. Kindly leave your valuable feedback in the comments below. And don’t forget to share Baazar of Novels on platforms like Facebook, WhatsApp, and Pinterest. Help us spread the love for Urdu novelsdigests, and poetry. With your support, we’ll continue publishing quality content and promote a stronger connection with Urdu literature.

                            Join us in redefining expectations and celebrating Urdu storytelling with Baazar of Novels.

                            4 thoughts on “Aatish e Zan by Barerah Arslan | Complete Novel0090 PDF Download Available”

                            1. Bhttt acha novel tha, bht heartbreaking topic, sahi se express ki hain aik rape victim ki feelings, dil dukha perh k😢 writing style b bht acha hai

                              Reply
                            2. aatish e zann bht zaberdast novel hai zyada hi talkh haqeeqat byan ki gai hai bss mujhy sultaan or shehwaar ky scene ki smajh nai aai mujhy lga shayd end py sultaan ka zameer jaagy ga pr esa kuch nai hua baqi end thora zyada dukhi tha adeela ko mrna nai chahiye tha q k usy kai lrkiyaan admire kr skti hain adeela ko powerful character hi rehna chahiye tha

                              Reply
                            3. Ye bht zaberdast novel hai zyada hi talkh haqeeqat byan ki gai hai bss mujhy sultaan or shehwaar ky scene ki smajh nai aai mujhy lga shayd end py sultaan ka zameer jaagy ga pr esa kuch nai hua baqi end thora zyada dukhi tha adeela ko mrna nai chahiye tha q k usy kai lrkiyaan admire kr skti hain adeela ko powerful character hi rehna chahiye tha

                              Reply

                            Leave a Comment