Dastan-e-Mohabat By Cellina Faisal | Complete Novel00239 Download Available

Dastan-e-Mohabat By Cellina Faisal is a complete soft romance novel blending friendship, family issues, and suspense, where silence speaks louder than words in unbreakable bonds tested by time. It chronicles deep friends standing firm through trials of stubbornness, emotions, laughter, grudges, illness, regret, and love, with doubts repeatedly challenging their ties—yet true affection always prevails.

Dastan-e-Mohabat By Cellina Faisal

Story Name: Dastan-e-Mohabat
Writer Name: Cellina Faisal
Genre: soft romance , friendship, family issues, suspense .
Status: Complete.
Writer Instagram ID: @ talesbycfx

Description:

یہ داستان ہے ایک ایسے بندھن کی جہاں خاموشی لفظوں سے زیادہ بولتی ہے۔ یہ ناول گہرے دوستوں کے گرد گھومتا ہے جنہوں نے مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑا۔ یہ داستان ہے ضد اور جذبات کی ، دوستوں کے ہنسی مزاق کی ، شکوہ ، روگ ، پچھتاوا اور محبت کی ۔ وقت ، حالات اور شک ان کے تعلق کو بار بار آزمائش میں ڈالتی ہے۔ لیکن سچی دوستی اور چاہت ہر امتحان میں خود کو منواتی ہے۔
 
 
 
 

Summary Of Dastan-e-Mohabat 

Dastan-e-Mohabat By Cellina Faisal unfolds around loyal friends whose bond weathers hardships, where quiet understanding outshines spoken promises. Dastan-e-Mohabat By Cellina Faisal dives into stubborn clashes and heartfelt emotions, filled with playful banter amid rising tensions from family woes and hidden suspicions. Dastan-e-Mohabat By Cellina Faisal captures laughter turning to laments, illness shadowing joy, and regrets lingering as time slips away unforgivingly.

In Dastan-e-Mohabat By Cellina Faisal, circumstances and doubts hammer their friendship relentlessly, yet genuine care proves unbreakable in every ordeal. Dastan-e-Mohabat By Cellina Faisal weaves soft romance through shared pains, where love emerges from pacts forged in fire—family secrets adding suspenseful layers. Dastan-e-Mohabat By Cellina Faisal highlights how true bonds conquer regret, with every test revealing deeper devotion and whispered affections.

Dastan-e-Mohabat By Cellina Faisal builds to poignant realizations: time passes, but regrets endure without cherish. Friends’ journeys mix lighthearted moments with profound sacrifices, suspense gripping as stakes rise. Dastan-e-Mohabat By Cellina Faisal inspires with its core message of enduring love amid life’s storms. Ultimately, Dastan-e-Mohabat By Cellina Faisal is a tender saga of silent loyalties—a timeless dastan where friendship blooms into eternal mohabat.

Writer Introduction

Cellina Faisal is a captivating Urdu romance writer specializing in soft emotional tales of friendship, family, and subtle suspense. Follow her on Instagram at @talesbycfx for more stories. With Dastan-e-Mohabat By Cellina FaisalCellina Faisal masterfully paints bonds that silence storms, leaving readers with heartfelt echoes of love’s quiet victories.

 
 

Read Other Categories

!اسلامُ علیکم

بازار آف ناولز پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہمارے پلیٹ فارم کا مقصد قارئین تک اردو ادب کا بہترین مواد پہنچانا ہے۔ بہترین ناولز کی پی۔ڈی۔ایف کے لیے ہماری ویب سائٹ  ضرور وزٹ کریں۔

اگر آپ لکھاری ہیں اور بہترین مواد لکھتے ہیں ، جو بےحیائی سے پاک اور عمدہ کونٹینٹ پر مبنی  ہوتا ہے، لیکن آپ کے کام کو پذیرائی نہیں ملتی تو اپنا لکھا ہمیں ضرور بھیجیں۔ بازار آف ناولز کو آپ جیسے لکھاریوں کی اشد ضرورت ہے۔ آپ ہم  تک دیے گئے پلیٹ فارمز کے ذریعےپہنچ سکتے ہیں۔ 

Website     :     www.baazarofnovels.com

Gmail         :     baazarofnovels@gmail.com

Instagram   :     @baazarofnovels

WhatsApp  :     +92 3158473374

Dastan-e-Mohabat By Cellina Faisal

Sneak Peak

 
✦✧✦⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯✦✧
یونیورسٹی کا ماحول قدرے خاموش تھا یا زویا کو لگ رہا تھا وہ نہیں جانتی تھی زویا آہستہ آہستہ قدم رکھتے ہوئے لائبریری کی طرف گئی۔ اس کے چہرے پر تھکن اور بےچینی صاف نظر آ رہی تھی۔ وہ دروازہ کھولے اندر داخل ہوئی۔ لائبریری میں ہلکی روشنی، اور ہَوا میں کتابوں کی خوشبو محسوس ہوئی ۔۔ زویا خاموشی سے ایک خالی ٹیبل کی طرف بڑھی۔ نظریں کتابوں کی سمت تھیں لیکن دل کسی اور کی موجودگی کو چاہتا تھا۔
پھر… جیسے کسی ان کہی کشش کے تحت نظر سامنے پڑی۔ وہ ایک ٹیبل پر بیٹھا ہوا تھا، کہنی میز پر ٹکائے، ہاتھ میں پین گھما رہا تھا، اور دوسرے ہاتھ سے کوئی صفحہ الٹ رہا تھا۔ نظریں کتاب میں تھیں۔۔
ازلان نے کتاب بند کی اور اپنے بیگ میں ڈالی اور جب نظریں اٹھائیں تو زویا سامنے کھڑی نظر آئی۔ زویا اُسے دیکھتے ہی واپس مڑی قدموں کی رفتار تھوڑی تیز ہو گئی، اور وہ رخ موڑ کر فوراً دوسری سمت نکل گئی۔
ازلان فوراً اس کے پیچھے گیا ، اُس کے قدموں کی چھاپ سن کر زویا کر دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی۔
ازلان نے پیچھے سے آواز دی۔۔
 “زویا!”
زویا نے قدم روکے، مگر مُڑی نہیں۔ ازلان آہستہ سے اُس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔ ازلان تھوڑی حیرت، تھوڑی خفگی لیے زویا کو دیکھتا رہا ۔
” زویا تم مجھے avoid کیوں کر رہی ہو۔۔؟؟”
“آپ کو لگ رہا ہے ورنہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔” زویا صاف الفاظوں میں بولی۔۔
“مجھے لگ نہیں رہا بلکہ ایسی ہی بات ہے۔۔۔” ازلان دھیمہ سا بولا۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔” زویا صرف اتنا ہی بولی ، وہ دوسری جانب چہرہ کیے کھڑی رہی۔۔۔
 
اگر تم مجھے اگنور نہیں کر رہی ، تو مجھے دیکھ کر پلٹی کیوں۔۔؟؟؟”
“میں۔۔۔ وہ غلطی سے آگئی تھی، محض ایک اتفاق تھا۔۔۔” زویا ذرا کنفیوز ہوئی
“اگر میں وہاں نہ ہوتا تو شاید وہ ایک اتفاق نہ ہوتا۔۔۔”
ازلان مسکراہٹ دباتے بولا
زویا نے کوئی جواب نہ دیا خاموشی سے کھڑی رہی۔۔۔
“زویا اندر لائبریری میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔” ازلان آہستگی سے بولا
“مجھے نہیں کرنی کوئی بھی بات ازلان۔۔۔”
ازلان کا نام زویا نے پہلی مرتبہ لیا، کسی ایک ملاقات میں بھی زویا نے اس کا نام نہیں لیا , بے اختیار اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔
“زویا پلیز۔۔ تھوڑی دیر، بس میرا قصور بتا دینا۔۔۔۔”
زویا بغیر کچھ کہے لائبریری کی طرف مڑ گئی۔۔ ازلان کے ساتھ وہ ایک خالی میز پر بیٹھ گئی اور چہرہ دوسری جانب کتابوں کی طرف موڑلیا۔۔۔
“زویا میری غلطی کیا ہے صرف یہ بتا دو مجھے، مجھے کیوں اگنور کر رہی ہو۔۔؟؟”
“میں آپکو پہلے بھی بتا چکی ہوں اور اب بھی بتا رہی ہو۔۔ میں آپکو اگنور۔ نہیں کر رہی ہوں۔۔”
“یعنی دو دن سے مجھے نظر انداز نہیں کر رہی۔۔؟؟”
“ایسے میں بھی کہہ سکتی ہو دو دن بعد آپکو خیال آیا ہے کہ زویا آپکو اگنور کر رہی ہے۔۔۔؟؟” نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لہجہ میں نمی بھر گئی۔۔۔
” میں تمہیں سپیس دینا چاہتا تھا تا کہ تم ذرا ایزی ہو جاؤ۔۔۔” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔
“آپ دیتے رہے اسپیس۔۔۔”
زویا دوسری جانب دیکھتی رہی جہاں کتابیں رکھی تھی۔۔۔۔
“ان کتابوں کو تو ایسے گھور رہی ہو جیسے ان سے بدلہ لینا ہے تم نے۔۔۔اس سے بہتر یہ نہیں کہ مجھے گُھور لو۔۔۔؟” ازلان مسکراہٹ دباتے بولا
“یا انہیں کتابوں میں سے کوئی خاص کتاب پڑھ لی تھی جس کا موضوع ہو
 how to avoid someone gracefully”
اتنی سی بات تھی اور زویا نے اسے گُھورا اور ازلان نے ساتھ ہی مسکرا دیا۔۔۔
“زویا وہ بچی تھی اس نے آکر کہہ دیا اٹس اوکے۔۔۔اتنی بڑی بات نہیں ہے ہاں ارحم کو یوں نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔ زیمل کی نیت دیکھنی تھی زویا۔۔۔ اور میں تو بے قصور ہوں جناب۔۔۔” زویا دوسری جانب دیکھ رہی تھی ازلان نے اس کو دوبارہ بولا۔۔
“زویا میں وہاں نہیں یہاں بیٹھا ہو۔۔۔۔”
زویا نے چہرہ اس کی طرف موڑا مگر نگاہیں جھکا لیں۔۔۔
“ویسے کیا تمھیں میری آنکھیں واقعی پسند ہے۔۔۔؟؟ اس کے اچانک یہ سوال کرنے پر زویا نے چہرہ اٹھا کر دیکھا۔۔۔
“میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔۔۔” وہ صاف مکر گئی۔۔
“یعنی زیمل جھوٹ بول رہی تھی۔۔۔؟؟”
“نہیں۔۔ میں یہ بھی نہیں کہا۔۔۔” وہ زویا کو پھنسا رہا تھا اور وہ پھنستی جا رہی تھی اسے رونا آرہا تھا بے تحاشہ رونا۔۔۔
“مطلب کے تمہیں پسند ہے۔۔۔” ازلان ایک دم ہنسا۔۔
“مجھے نہیں پتا۔۔۔” زویا چہرہ جھکائے بولی۔۔
“تھوڑی بہت تو ہونگی۔۔؟؟؟”
“ہونگی۔۔۔” زویا صرف اتنا ہی بولی
“زویا اس میں کوئی مسلے والی بات نہیں ہے۔۔”
وہ نظریں جھکائے بیٹھی رہی۔۔ سب خراب ہو رہا تھا سب کچھ ۔۔۔ وہ رونا نہیں چاہتی تھی وہ جانتی تھی وہ ہزار بار روٹھے گی تو ازلان اس کو ہزار بار منا لے گا۔۔۔ وہ اس کے سامنے بیٹھا اس کو منا رہا تھا۔اور وہ موم کا ڈھیر بن رہی تھی۔۔۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرنے لگی۔۔۔
” تمہیں اگر پسند ہے میری آنکھیں تو کوئی مسلہ نہیں مجھے اچھا لگا سن کر بلکہ۔۔۔۔”
 ابھی الفاظ اس کے منہ میں ہی تھے کہ اس کو لگا کہ زویا رو رہی ہے۔۔۔
“زویا تم رو رہی ہو۔۔۔؟؟؟”
اتنی سی بات تھی اور زویا اپنے ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپائے بے آواز رونے لگی۔۔۔۔۔ ازلان کا تو حیرت سے پھیلے منہ کھلا اور پھر وہ یکدم ہی پریشان ہوا۔۔۔
ازلان نے اِدھر اُدھر دیکھا اور پھر کرسی اٹھا کر زویا کے پاس لے گیا۔۔۔
“او خدایا۔۔۔زویا تم واقعی رو رہی ہو ؟؟ پلیز نہیں نہیں ۔۔ اچھا آئی ایم سوری شاید میری وجہ سے تم ہرٹ ہو گئی ۔۔۔۔ شاید کیا۔۔ بلکہ میری ہی وجہ سے۔۔۔ میں نے ضرور کچھ نہ کچھ کیا ہو گا۔۔۔ سوری سوری بس رونا بند کر دو۔۔۔”
اس بیچارے کو سمجھ نہ آیا وہ کیا کہے ، کونسی غلطی کی معافی مانگنی تھی وہ تو یہ بھی نہیں جانتا کے غلطی کیا ہوئی تھی مگر پھر بھی معافی مانگنی تھی
زویا چپ چاپ آنسو بہاتے بولی۔۔ “آپ بھی سب کی طرح میرا مذاق اڑا رہے۔۔۔”
“میری اتنی مجال زویا۔۔۔”
“تو یہ ابھی آپ کیا کر رہے تھے۔۔۔؟؟؟” وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولی
“وہ تو بس ایسے ہی مزاق کر رہا تھا مزاق مہنگا پڑ جائے گا اس کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔ اور تم روتی نہیں بلکہ رعب جھاڑتے ہوئے اچھی لگتی ہو۔۔۔” ازلان ہلکا سا مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔
زویا نے بہت سے آنسو اندر اتارے بیگ سے ٹشو نکالا اور چہرہ صاف کیا دوبارہ زویا نے بیگ سے پونی نکالی اور بال باندھنے ہی لگی تھی کے ازلان نے ساتھ ہی بولا
“کُھلے رہنے دو بال ، اچھے لگ رہے ہیں۔ـ۔”
 
یکدم ہی زویا کے گال سرخ ہوئے جو بالوں کو ہاتھوں میں لیے بیٹھی تھی بے اختیار ہی سارے بالوں کو چھوڑ دیا۔۔اور اس نے چہرہ شرماتے ہوئے دوسری جانب موڑا
“اب میری شکل اتنی بُری تو نہیں ہے زویا کے تم میری طرف دیکھو ہی نہ۔۔۔” ازلان نہایت معصومیت سے بولا۔۔۔
 
تو زویا نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ دونوں کی نگاہیں ملی۔۔۔ چند پل ایسے ہی گزر گئے اور دونوں ہنس پڑے۔ کچھ دیر ہنستے رہے۔۔۔
” سیریسلی مجھے نہیں پتہ تھا میں تمہاری تعریف کرو گا تو تم فوراً مان جاؤ گی۔۔۔” ازلان ذرا شرارت میں بولا۔۔۔
“ایسے بات نہیں ہے وہ تو آپ اتنا اصرار کر رہے تھے تو میں مان گئی۔۔۔”
 
“اچھا اچھا۔۔۔ بس مجھے پتہ لگ گیا خفا تم لائبریری کے باہر تک تھی اندر آکر جو تم نے سب کیا وہ صرف نخرے تھے۔۔۔ہیں نا ؟؟؟”
زویا اس کی بات پر ہنسی تو گال پر ڈمپل پڑا۔۔۔
“میں زیادہ دیر ویسے بھی خفا نہیں رہتی۔۔۔” زویا نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“اور رہنا بھی مت۔۔۔” ازلان نے دھیرے سے کہا۔۔۔
 
چند پل خاموشی کے نظر ہوئے۔۔۔ پھر دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور دوبارہ ہنس پڑے۔۔۔۔
زویا ہنستے ہوئے بولی۔۔۔”کیا ہے کیوں ہنسی جا رہے ہو؟”
” تم کیوں ہنس رہی ہو۔۔۔؟؟”
 
“میرا دل کر رہا ہے۔۔۔” زویا بولی
‘تو پھر میرا بھی دل کر رہا ہے۔۔۔” ازلان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔
“چلوں چلتے ہیں اس سے پہلے ہمیں لائبریری سے باہر نکالے۔۔۔” زویا نے نرمی سے بولا۔۔۔
“اچھا ایک آخری بات پوچھوں۔۔؟؟” ازلان نے نہایت سنجیدگی میں کہا۔۔۔ زویا نے سر ہلایا تو وہ بولا۔۔۔
“”زیمل نے سچ کہا تھا نا۔؟؟” ساتھ ہی ازلان مسکرایا۔۔
 
“ازلان باز آرہے ہو کے نہیں ؟؟” زویا نے حیرت سے اس کو دیکھا
“بتا دو میری زندگی کی ایک مسٹری تو حل ہو گی۔۔”
“مجھے نہیں پتہ ہو سکتا ہے سچ کہا ہو۔۔۔” زویا مسکراتے ہوئے باہر کی جانب بڑھی ازلان کو اسکا جواب مل گیا تھا تو وہ ساتھ ہی نکل گیا۔۔۔۔۔ چند پل دونوں ساتھ چلے اور پھر دونوں کے راستے الگ ہو گئے۔۔۔
 
Click Here To Read Online👇🏼
 
 

Click Here To Download 👇🏼

READ OTHER NOVEL

FOLLOW US ON:

Instagram , Pinterest , Facebook , Youtube

Read Other Writers

Our Purpose

Baazar of Novels strives to provide passionate readers with top-notch Urdu literature, offering a handpicked collection of short Urdu novelslong Urdu novels, and digest novels in Urdu. We believe that a well-crafted story has the power to influence hearts and minds differently for each individual. That’s why we choose online novels that not only spark the imagination but also reflect maturity, depth, and cultural richness.

Our Commitment

We maintain high standards for the quality of all the Urdu novels PDF we share. Every complete Urdu novel on our website is carefully reviewed by our team of dedicated readers to ensure a refined and enjoyable reading experience. As a trusted source of website based Urdu novels, we aim to give you the confidence that you are reading something truly worthwhile.

What Sets Us Apart

Unlike many platforms, we do not promote vulgar or explicit material. Our aim is to provide meaningful, engaging, and clean romantic Urdu novels that touch on social issues, love, and values. Our dedication to preserving the beauty of Urdu literature makes Baazar of Novels a reliable and inspiring space for readers looking for genuine Urdu online novels.

Join Our Community

Whether you’re a fan of short storieslong novels, or classic digest novels in Urdu, we invite you to become part of our growing community. From online novels to Urdu novels 2025, we offer a rich collection suitable for both new and experienced readers. Discover the magic of words through our carefully selected free Urdu novels download collection.

Conclusion

We’d love to hear from you. Kindly leave your valuable feedback in the comments below. And don’t forget to share Baazar of Novels on platforms like Facebook, WhatsApp, and Pinterest. Help us spread the love for Urdu novelsdigests, and poetry. With your support, we’ll continue publishing quality content and promote a stronger connection with Urdu literature.

Join us in redefining expectations and celebrating Urdu storytelling with Baazar of Novels.

Leave a Comment