Sabhi Chahten Mere Naam Ker by Yumna Talha | Complete Novel0107 Download Available

Sabhi Chahten Mere Naam Ker by Yumna Talha is a family-based Urdu novel centered on cousin marriage, moral values, and misunderstood relationships. A meaningful story about communication, patience, and healing emotional rifts within families.

Sabhi Chaten Mere Naam Ker by Yumna Talha

Story Name: Sabhi Chahten Mere Naam Ker
Writer Name: Yumna Talha
Genre: cousin marriage, family based, moral
Writer Instagram ID: @yumna_talha_writes
Status: Complete.
Description:
آخر کیوں نہال کی مامی کو اس سے بیر ہے؟ آخر کیوں فرہاد اس سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا؟ آخر اس سے کیا غلطی سر زد ہوئی۔ جبکہ اس نے تو کبھی کچھ ایسا کیا ہی نہیں تھا۔ رشتے داروں میں تلخیاں اکثر ان کی نسلیں بھی فیس کر جاتی ہیں۔ جو مسائل آپس میں بات کر کے سلجھائے جاسکتے ہیں انہیں یوں ہی چھوڑ دیں تو بڑھتے بڑھتے پہاڑ کی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور رشتوں میں درار پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ کہانی نہال کی ہے جو اپنی والدہ کی وفات کے بعد اپنے ماموں کے پاس شفٹ تو ہوگئ لیکن اپنی مامی اور کزن فرہاد کے رویوں نے اس کا جینا محال کر دیا ہے۔ نہال یہ سب کیسے فکس کرتی ہے؟ کیسے ان کے دلوں میں گھر کر جاتی ہے؟ آخر تلخ رویے کی وجہ کیا ہوتی ہے؟ جاننے کے لیے پڑھیے۔۔۔

Summary Of Sabhi Chahten Mere Naam Ker

Sabhi Chahten Mere Naam Ker by Yumna Talha is a realistic and emotionally grounded Urdu novel that highlights common family issues arising from misunderstandings, unspoken grievances, and lack of communication. The story sheds light on how relationships slowly weaken when assumptions replace dialogue.

At the heart of Sabhi Chahten Mere Naam Ker by Yumna Talha is Nehaal, a young woman whose life changes drastically after her mother’s death. She moves in with her maternal uncle, hoping for emotional support, but instead faces cold behavior from her aunt and cousin, Farhad. Their unexplained resentment makes her daily life emotionally exhausting.

Sabhi Chahten Mere Naam Ker by Yumna Talha raises important questions: Why does Nehaal’s aunt harbor bitterness toward her? Why does Farhad avoid speaking to her properly? What mistake did Nehaal make when she believes she did nothing wrong? These unanswered questions deepen the emotional tension within the family.

As Sabhi Chahten Mere Naam Ker by Yumna Talha unfolds, the novel explores how unresolved family conflicts can pass down through generations. Small issues that could be resolved through honest conversation are ignored, eventually turning into emotional walls that damage relationships beyond repair.

The story of Sabhi Chahten Mere Naam Ker by Yumna Talha focuses on Nehaal’s patience, emotional strength, and moral values as she navigates hostility with grace rather than bitterness. Slowly, she finds a way to soften hearts, address misunderstandings, and create emotional space for healing.

Through family dynamics and cousin relationships, Sabhi Chahten Mere Naam Ker by Yumna Talha delivers a strong moral message: life becomes easier when problems are shared, words are chosen carefully, and comparisons between people are avoided.

Ultimately, Sabhi Chahten Mere Naam Ker by Yumna Talha is a heart-touching family novel that emphasizes empathy, communication, and the power of good character in mending broken bonds.

Writer Introduction

Yumna Talha is an Urdu fiction writer known for her family-oriented and morally driven storytelling. Her novels often focus on household relationships, cousin marriages, and social values rooted in patience, understanding, and emotional maturity. With simple yet impactful narratives, Yumna Talha highlights everyday issues that resonate deeply with readers, making her stories both relatable and meaningful.

Read Other Categories

!اسلامُ علیکم

بازار آف ناولز پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہمارے پلیٹ فارم کا مقصد قارئین تک اردو ادب کا بہترین مواد پہنچانا ہے۔ بہترین ناولز کی پی۔ڈی۔ایف کے لیے ہماری ویب سائٹ  ضرور وزٹ کریں۔

اگر آپ لکھاری ہیں اور بہترین مواد لکھتے ہیں ، جو بےحیائی سے پاک اور عمدہ کونٹینٹ پر مبنی  ہوتا ہے، لیکن آپ کے کام کو پذیرائی نہیں ملتی تو اپنا لکھا ہمیں ضرور بھیجیں۔ بازار آف ناولز کو آپ جیسے لکھاریوں کی اشد ضرورت ہے۔ آپ ہم  تک دیے گئے پلیٹ فارمز کے ذریعےپہنچ سکتے ہیں۔ 

Website     :     www.baazarofnovels.com

Gmail         :     baazarofnovels@gmail.com

Instagram   :     @baazarofnovels

WhatsApp  :     +92 3158473374

Sabhi Chahten Mere Naam Ker by Yumna Talha

Sneak Peak

“یہ کیا ہے؟” نہال نے حیران کن لہجے میں پوچھا۔
“غالباً انہیں پھول کہتے ہیں۔ جو باغوں میں اگتے ہیں۔ باغ تو دیکھا ہوگا نا تم نے؟” اس کی سنجیدگی سے کہے ہوئے ایسے جواب پر نہال خفیف سی ہوکر رہ گئ۔
“میرا وہ مطلب نہیں تھا۔” نہال نے خجالت سے کہا۔
“شکر ورنہ میں سوچ رہا تھا تمہیں اے ون ڈیویژن کس بیوقوف نے دے دی۔” فرہاد کی بات پر اس نے شاکی نظروں سے فرہاد کو دیکھا۔
“تمہارے لیے لایا تھا قبول کرو۔ گریجویشن گفٹ سمجھ لو۔” فرہاد نے کہا۔
“میں تب قبول کروں گی جب تم ماموں کو نہیں بتاؤ گے!” نہال کو ایک دم آئیڈیا آیا راہ فرار کا اور مزید شرمندگی سے بچنے کا۔
“اچھا؟” کچھ سوچتے ہوئے فرہاد نے اپنی طرف کا شیشا نیچے اتار کر ادھر ادھر دیکھا۔
“کسے ڈھونڈ رہے ہو؟” نہال نے اس کے متلاشی انداز کو دیکھا تو پوچھا۔
“یہاں کئ لڑکیاں ہیں جو گریجویٹ ہوئی ہیں۔ اب تم قبول نہیں کر رہیں تو ایویں ان میں سے کسی کو دے دیتا ہوں!” وہ لا پرواہی سے بولا تو نہال سٹ پٹا گئ۔ اس سے کوئی بعید نہیں تھی۔ وہ یہ کر گزرتا۔
“نہیں نہیں لاؤ دو۔۔۔” نہال کے سیز فائر پر فرہاد نے فاتحانہ نظروں سے اسے دیکھا۔ پھر گاڑی سٹارٹ کرتا ہؤا گھر کے راستے کی طرف لے گیا۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اب چھپنے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟” فرہاد نے استفسار کیا۔ گلاس وہ کاؤنٹر پر ہی رکھ چکا تھا۔ نہال کو اپنا آپ بے ڈھب لگ رہا تھا۔ اس نے نادم سا چہرا بنا کر فرہاد کو دیکھا۔
“و۔۔ وہ مامی نے الینا کو حکم دیا تھا تمہیں کھانا دینے کے لیے۔ اسے اٹھاتی رہ گئ پر نہیں اٹھی۔ میں نے سوچا خاموشی سے کھانا رکھ دوں گی تمہیں لگے گا کہ الینا نے رکھ دیا ہے تاکہ کل مامی کے پوچھنے پر کم از کم اسکی کلاس نہ لگے۔” اس کی آواز میں ندامت اور شرمندگی محسوس کرتے ہوئے وہ مزید لطف اندوز ہؤا۔ یہ لڑکی بھی عجیب سی تھی۔ یوں بردباری اور سلجھا پن تو نظر آتا تھا لیکن اس کی ہر بار کی گئ بچکانہ حرکتیں فرہاد کو اسکی معصومیت پر سوچنے پر مجبور کر دیا کرتی تھیں۔
“تو تم کھانا لگا کر مجھ سے بھی تو کہہ سکتی تھیں کہ مام کو نہیں بتانا ہے؟” فرہاد نے ایک آبرو اچکا کر اسے نظروں سے گھورا۔
“اگر میں منع کرتی تو تم نہیں کہتے؟” نہال نے پوچھا۔
“بلکل نہیں!” فرہاد نے قطعیت سے کہا۔
“اوہ۔۔۔ خیر اب تو پتہ چل گیا نا! اور لاؤ دو میں پانی رکھ دیتی ہوں۔” اس نے آگے بڑھ کر کاؤنٹر سے بوتل لینی چاہی جسے فرہاد نے تھام لیا تھا۔
“ویسے مجھے خوشی ہے کہ کھانا تم نے سرو کیا ہے۔” وہ اسے بوتل پکڑا کر گویا ہوا۔
“اچھااا؟”۔نہال کی حیرانی دیدنی تھی۔ فرہاد نے نظروں کو بھینچ کر اسے سوالیہ انداز سے دیکھا۔
“بھئ تمہیں تو میری سرونگ زرا نہ بھائی تھی۔ اگر اب کی بار کھانے میں بال نکل گیا تو؟” نہال نے شرارت سے اسے کہا۔
“کوئی مسئلہ نہیں ہے! ایک طرف کر دوں گا!” اس نے اتنی ہی روانی سے جواب دے کر نہال کو گنگ کیا۔
“کیا واقع؟ تمہیں اس بات سے کوئی مسئلہ نہیں ہے پر تم تو او سی ڈی ڈائگنوزڈ لگتے ہو۔”
“اب تمہارے معاملے میں نہیں!”
“اچھا؟ اور موصوف پر یہ بدلاؤ کیسے آیا؟” اس نے ہاتھ باندھ کر فرہاد سے پوچھا۔
“جب سے دل کے ہاتھوں مجبور ہؤا ہوں!” نہال نے اسے اچھنبے سے دیکھا پھر نا سمجھی سے راستے سے ہٹی اور بوتل پکڑ کر آگے بڑھ گئ۔
“کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے تمہارا اور کچھ تو نہیں چاہیئے؟” نہال کچن سے نکلتی ہوئی پوچھنے لگی۔
“کیا یہ کام تم ہر رات نہیں کر سکتیں؟” فرہاد جو اسکے پیچھے پیچھے تھا گویا ہؤا۔
“شمع ہوتی ہے۔ آج ہی نہیں آئی ہے۔۔۔ میں کیوں اپنی نیندیں برباد کروں؟” وہ پھر بے نیازی سے پلٹ کر کہنے لگی۔ اگر کچھ دیر رک کر فرہاد کی نگاہوں میں دیکھتی تو اس کے حصار میں خود کو گھیرا محسوس کر لیتی۔
“میری خوش نصیبی ہوگی اگر یہ کام تم سر انجام دو!”
“اچھا واقع کس رشتے سے؟” اس نے آبرو اچکا کر پوچھا۔
“تمہیں اعتراض نہ ہو تو ایک رشتہ بن سکتا ہے!”
✦✧✦⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯✦✧
“مانگ لی دعا اپنے منگیتر کے لیے؟ مجھے تو لگا تھا ابھی مزید دیر لگے گی۔۔۔ جان سکتا ہوں کیا کیا مانگا ہے تم نے؟” وہ کرخت لہجے میں اس سے مخاطب ہؤا تھا۔ اس کا کبیدہ چہرا نہال سے چھپا نہیں تھا۔ دل ڈوب کر ابھرا تھا پر بدلے میں نہال نے سپاٹ سا انداز اپنایا تھا۔ “تم سے مطلب؟ اور ہٹو راستے سے۔ تماشا مت بناؤ۔ گھر میں سب موجود ہیں!” وہ کہہ کر رکی نہیں اور کمرے کا دروازہ پار کر دیا۔ فرہاد کی بے بسی عروج پر تھی۔ “رکو تم! بات جب تم سے کر رہا ہوں تو جانے کی ضرورت نہیں۔ جب تمہیں معلوم تھا کہ عدنان سے بات طے ہے تو بتا نہیں سکتی تھیں؟ میرے جزبات کے ساتھ کھیل کر کیا حاصل ہؤا تمہیں!” وہ جارہانہ انداز میں آگے بڑھا اور اسکا راستہ روک دیا۔ “تم مجھ سے پوچھنے سے پہلے مامی سے کیوں نہیں پوچھتے؟ کیا ان کا فرض نہیں تھا تمہیں بتانا؟ کیا میں اچھی لگتی سب کو بتاتی پھرتی اپنے رشتے کے بارے میں؟ اور تم کس جزبات کی بات کر رہے ہو؟” وہ فرہاد کے تیور دیکھ کر مزید مشتعل ہوئی۔ “میں نے تم سے کب شادی کا وعدہ کیا تھا؟ میں نے لبوں سے تو دور نظروں سے بھی کبھی اس بات کا اشارہ تک نہیں دیا کہ مجھے تمہارا پروپوزل قبول ہے۔ لہاذا اس بارے میں بات مت کرنا!” وہ بے یقینی سے نہال کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے لہجے میں زرا جو جھول ہوتا۔ زرا جو جھجھک ہوتی۔ فرہاد کے چہرے کے تاثر اس کے اندرونی خلفشار کی ترجمانی کر رہے تھے۔ وہ اپنے جزبات پر قابو نہیں کر پا رہا تھا۔ کبھی ایک دم مشتعل ہو جاتا تو دوسرے لمحے مکمل اداسی چھا جاتی۔
Click Here To Read Online👇🏼
 

Click Here To Download 👇🏼

READ OTHER NOVEL

FOLLOW US ON:

Instagram , Pinterest , Facebook , Youtube

    Read Other Writers

        Our Purpose

          Baazar of Novels strives to provide passionate readers with top-notch Urdu literature, offering a handpicked collection of short Urdu novelslong Urdu novels, and digest novels in Urdu. We believe that a well-crafted story has the power to influence hearts and minds differently for each individual. That’s why we choose online novels that not only spark the imagination but also reflect maturity, depth, and cultural richness.

            Our Commitment

              We maintain high standards for the quality of all the Urdu novels PDF we share. Every complete Urdu novel on our website is carefully reviewed by our team of dedicated readers to ensure a refined and enjoyable reading experience. As a trusted source of website based Urdu novels, we aim to give you the confidence that you are reading something truly worthwhile.

                What Sets Us Apart

                  Unlike many platforms, we do not promote vulgar or explicit material. Our aim is to provide meaningful, engaging, and clean romantic Urdu novels that touch on social issues, love, and values. Our dedication to preserving the beauty of Urdu literature makes Baazar of Novels a reliable and inspiring space for readers looking for genuine Urdu online novels.

                    Join Our Community

                      Whether you’re a fan of short storieslong novels, or classic digest novels in Urdu, we invite you to become part of our growing community. From online novels to Urdu novels 2025, we offer a rich collection suitable for both new and experienced readers. Discover the magic of words through our carefully selected free Urdu novels download collection.

                        Conclusion

                          We’d love to hear from you. Kindly leave your valuable feedback in the comments below. And don’t forget to share Baazar of Novels on platforms like Facebook, WhatsApp, and Pinterest. Help us spread the love for Urdu novelsdigests, and poetry. With your support, we’ll continue publishing quality content and promote a stronger connection with Urdu literature.

                            Join us in redefining expectations and celebrating Urdu storytelling with Baazar of Novels.

                            Leave a Comment