Palkon Per Thehray Khwab by Habiba Umair
Story Name: Palkon Per Thehray Khwab
Writer Name: Habiba Umair
Genre: Orphan Herion, Innocent Herion, Social romantic, Happy Ending, Police Officer Hero, Rude Hero, Caring hero, Caring Herion, Family Issues, Regret, Emergency Nikkah, Kidnapping Based, After nikkah, After Marriage, Cousin Marriage.
Status: Complete.
Summary Of Palkon Per Thehray Khwab
Read Other Categories
- After marriage
- Age difference
- Army based
- Agency based
- Boss Hero
- Cousin marriage
- Contract marriage
- Caring hero
- Chaotic heroine
- Childhood Engagement
- Employed heroine
- Emotional
- Emergency nikah
- Engaement Period
- Forced marriage
- Friendship
- Family issues
- Family novel
- Family relations
- Funny novels
- Feudal system
- Hero Teacher
- Hate to love
- Haveli based
- Hero hates heroine
- Humor
- Innocent heroine
- Islamic based
- Joint family
- Kidnapping
- Khoon Baha
- Love story
- Mature Writing Style
- Multiple couple
- Mysterious
- Office based
- Police officer hero
- Poor hero
- One side love
- Rich heroine
- Rude hero
- Rude heroine
- Romantic
- Revenge
- Romance
- RomCom
- Sanwali heroine
- Second marriage
- Secret Agent
- Singer hero
- Social issues
- Social media friendship
- Soft romance
- Strangers to lovers
- Social romantic
- Social romance
- Spiritual
- Strong heroine
- Suspense
- Thrill
- Traumatized heroine
- Vani based
- Village based
- Writer heroine
!اسلامُ علیکم
بازار آف ناولز پر آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہمارے پلیٹ فارم کا مقصد قارئین تک اردو ادب کا بہترین مواد پہنچانا ہے۔ بہترین ناولز کی پی۔ڈی۔ایف کے لیے ہماری ویب سائٹ ضرور وزٹ کریں۔
اگر آپ لکھاری ہیں اور بہترین مواد لکھتے ہیں ، جو بےحیائی سے پاک اور عمدہ کونٹینٹ پر مبنی ہوتا ہے، لیکن آپ کے کام کو پذیرائی نہیں ملتی تو اپنا لکھا ہمیں ضرور بھیجیں۔ بازار آف ناولز کو آپ جیسے لکھاریوں کی اشد ضرورت ہے۔ آپ ہم تک دیے گئے پلیٹ فارمز کے ذریعےپہنچ سکتے ہیں۔
Website : www.baazarofnovels.com
Gmail : baazarofnovels@gmail.com
Instagram : @baazarofnovels
WhatsApp : +92 3158473374

Sneak Peak
ودعیہ نے کسمسا کر آنکھیں کھولنے کی کوشش کی بے دھیانی میں اس کا ہاتھ عالی پر گزا۔ عالی کی آنکھ کھل گئی۔
جھکا۔ و درعیہ کو ہوش میں آتا دیکھ کر وہ فوراً اس کی طرف
ودعیہ تم ٹھیک ہو اس نے اس کے چہرے کو تھپتھپایا۔
ہوں ہوں ۔ دوعیہ نے مشکل سے آنکھیں پوری واکیں۔
کہا۔ پانی اس نے دھیمی آواز میں سوکھتے حلق سے
” آہاں اٹھو شاباش۔“ اس نے اسے سہارا پانی نکالا اور اسے پلایا۔
اس نے ایک ہی سانس میں گلاس خالی کر دیا اور دوبارہ گلاس عالی کی طرف بڑھایا۔
اور چاہیے۔ اس نے پیار سے پوچھا۔
ودعیہ نے نفی میں سر ہلایا۔ عالی نے ہاتھ بڑھا کر اس کے ماتھے پر رکھا۔
بخار تو کم ہو گیا ہے تمہارا تم نے کچھ کھایا ہوا ہے کیا ؟ اس نے پوچھا۔
ہوں اس نے ایسے پوچھا جیسے سمجھ میں نہ آیا ہو کیا کہا گیا ہے۔
میں تمہارے لیے کچھ لاتا ہوں ، کھانے کو پھر دوا لینا اوکے۔“ وہ چمکا رتے ہوئے کہہ کر اٹھ کھڑا و دعیہ نے سر کو ملا اور ارد گرد کا جائزہ لیا وہ اچھل پڑی۔
وہ عالی کے کمرے میں ہے وہ یہ جان کر ہی وہ عالی کے کمرے میں اچھل کر بیڈ سے اٹھ گئی۔
وہ جانے کو پر تول رہی تھی کہ عالی ٹرے میں دودھ اور سلائس لے کر کمرے میں داخل ہوا۔
” کیا ہوا ہے تمہیں؟ وہ گھبرا گیا اسے ایسے کھڑاد دیکھ کر وہ ابھی ٹھیک نہیں تھی۔
وہ میں میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں ۔
وہ سر جھکا کر بولی کون سا کمرہ؟ عالی نے مرے لے کر کہا۔
اپنے کمرے میں ۔ وہ دھیمے لہجے میں سر جھکا
کر شرم سے بولی۔
اچھا لیکن تم کہیں نہیں جار ہیں کیونکہ اب سے یہ تمہارا بھی کمرہ ہے اور میرا بھی ۔ وہ بڑے بیڈ پر رکھ کر اس کے مقابل آ گیا اس نے اسے کندھوں سے تھاما اور بیڈ پر بٹھا دیا۔
ی کھا لو اور پھر دوائی لے لیتا اور چپ کر کے سو جاتا وہ اس کو تنبیہہ کر کے بولا ۔
میں کپڑے چینچ کر لوں ابھی تک میں نے یونیفارم ہی پہن رکھا ہے ۔ وہ مسکرا کر واش روم میں
داخل ہوا۔
و دعیہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے وہ ہاتھ گود میں رکھ کر بیٹھی تھی کہ عالی چینج کر کے بھی آ گیا۔
تم نے اب تک کھایا نہیں ۔ وہ اس کے مقابل بیٹھ کر بولا۔
“جلدی سے کھاؤ پھر دوائی دیتا ہوں تمہیں ۔ وہ دودھ کا گلاس اس کی طرف بڑھا کر بولا ۔
ودعیہ نے چپ کر کے گلاس تھام لیا عالی
مسکرایا۔
تم تو اچھی لڑکی بنتی جارہی ہو و دعیہ“ و دعیہ نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا اور زیر لب مسکرائی۔
” یہ دوائی لے لو۔“ اس نے ٹیمپلیٹ اسے تھمائی۔ اب تم سو جاؤ و دعیہ تمہاری طبیعت ابھی پوری طرح سمبھلی نہیں ہے۔ وہ کہہ کر اٹھ گیا۔
میں یہاں کیسے سو سکتی ہوں؟“ وہ گھبرا کر اٹھ گئی۔
کیوں نہیں سو سکتی تم میری منکوچہ ہو اور اپنے شوہر کے کمرے میں سونے کے لیے تمہیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تیور بدل کر بولا ۔ “پھر میں یہاں. یہاں وہ بلش ہو گئی چہرے پر قوس قزح کے رنگ بھر رہے تھے۔
عالی کو یہ ململ کی قوس و قزح پر ٹوٹ کر پیار آیا وہ چند قدموں کا فاصلہ طے کر یک اس کے سامنے آیا۔
چانتی ہو ودعیہ مجھے تم سے کبھی ہمدردی نہیں رہی تھی بڑی نفرت کرتا تھا میں تم کی ایک جذب کے عالم میں بول رہا تھا ۔ ” میں تم سے وہ
و دعیہ نے نظریں اُٹھا کر بدلے ہوئے عالی کو
دیکھا۔
یہ وہ عالی نہیں تھا جس سے وہ ہمیشہ بے زار رہتی تھی یہ تو ایک الگ ایک منفر د عالی تھا جو اس کے دل کے تخت پر چپکے سے براجمان ہو گیا تھا۔
” پھر جب سے تم سے نکاح کا فیصلہ کیا تب شاید تم پر ترس آ گیا تھا مجھے پیار و محبت جیسے جذبات شاید اس وقت بھی میرے دل میں نہیں تھے مگر شاید
یہ ہمارے درمیان مقدس رشتہ ہی وجہ بنا میرے دل میں تمہارے لیے پیار کا جذبہ پیدا کرنے کا۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا ۔
ودعیہ کے گال لال ہو رہے تھے آج اس کی آنکھوں میں نفرت یا بیزاری نہیں تھی بلکہ وہی رنگ جھلک رہے تھے جو عالی کی آنکھوں میں تھے زندگی میں پہلی بار عالی کو سننا اسے اچھا لگ رہا تھا۔
جانتی ہو جب تم مجھ سے فون پر بات نہیں کرتیں تھیں جب میں آتا تو کتراتیں تھیں مجھے عجیب بے چینی ہو جاتی تھی تم پر غصہ بھی بہت آتا تھا اس کے اوپر وہ نائلہ وہ خفی سے بولا۔
آپ پہلے نائلہ کو چاہتے تھے تاں عالی ؟“ ودعیہ نے بے ساختگی سے پوچھ لیا۔
کم آن … میں بھلا اس میک اپ کٹ کو کیوں چاہنے لگا عجیب بے ہودہ لڑکی ہے وہ ۔
22 تہ ہے جب تم وہاں تھیں حویلی میں تو مجھے تمہاری کتنی فکر ہوگئی تھی سارا غصہ جو تم پر تھا ہوا ہو گیا ۔
پھر مجھے شدت سے احساس ہوا کہ تم نے تو میرے دل پر قبضہ جمالیا ہے اور میرا دل اب میرا نہیں رہا۔ وہ اپنا ہاتھ سینے پر رکھ کر بولا۔
کل تمہارے فون کے بعد مجھے لگا کہ اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو شاید میرا جینا ناممکن سہی لیکن بہت دشوار ہو جائے گا۔
وہ اس کو شانوں سے پکڑ کر اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا ۔
آج میں تم سے بر ملا کہہ رہا ہوں کہ مجھے تم سے محبت ہے و درعیہ شاید محبت تمہیں بھی ہے ناں مجھ سے کیونکہ تمہاری آنکھوں کی چمک اور چہرے کی حیا
یہ بتارہی ہے کہ جو میں سوچ رہا ہوں وہ سچ ہے۔
ہے ناں وہ اشتیاق سے بولا۔
ودعیہ نے شرما کر سر جھکا لیا۔
عالی اور اس کے درمیان بہت کم فاصلہ تھا۔ اب میں جاؤں ۔ وہ آہستگی سے بولی۔
کہاں جاتا ہے؟ آپ کو زوجہ عالی ۔“
اپنے کمرے میں “
یہ بھی تو تمہارا ہی کمرہ ہے اور سامنے کھڑا یہ تو جوان تو پور پور تمہارا ہے ۔ وہ شوخ ہوا۔
ودعیہ سائیڈ سے نکل کر بڑھی تو عالی نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
Click Here To Download 👇🏼
READ OTHER NOVELS
Follow Us On Our Social Media
Instagram , Pinterest , Facebook , Youtube
Read Other Writers
- Aasiya Raees Khan novels
- Anila Kiran novels
- Aleesha Ansari novels
- Asma Saleem novels
- Ateeqa Ayub novels
- Aimal Raza novels
- Amreen Riaz novels
- Ayna Baig novels
- Bia Ahmed novels
- Dur e Saman novels
- Faiza Iftikhar novels
- Fareeda Saifi novels
- Farzana Kharal novels
- Farah Bhutto novels
- Farhana Naz novels
- Farhat Ishtiaq novels
- Fakhra Jabeen novels
- Fatima Laghari novels
- Hina Malik novels
- Humaira Ali novels
- Husna Hussain novels
- Iffat Sehar Tahir novels
- Khadija Noor novels
- Marjaan Qutab novels
- Mah Ara novels
- Mawra Talha novels
- Mehrunisa Shahmeer novels
- Maryam Aziz novels
- Mamoona Nasrullah novels
- Misbah Awaan novels
- Munam Malik novels
- Nabila Abrar Raja novels
- Nabila Aziz novels
- Nadia Amin novels
- Nadia Fatima Rizvi novels
- Naila Tariq novels
- Nayab Jilani novels
- Nazia Kanwal novels
- Nazia Jamal novels
- Nighat Seema novels
- Muskan Azham novels
- Qamrosh Ashok novels
- Rafia Aziz novels
- Rashida Riffat novels
- Sadaf Asif novels
- Sadaf Rehan novels
- Saima Akram Chauhdray novels
- Saima Shareef novels
- Salwa Jabbar novels
- Sana Zafar novels
- Sehar Sajid novels
- Sundas Jabeen novels
- Shahnoor Shabbir novels
- Shazia Ata novels
- Sumaira Sarfraz novels
- Tanzeela Maqsood novels
- Umme Abbas novels
- Umaima Farooq novels
- Umm e Aqsa novels
- Umm e Maryam novels
- Ushna Kauser novels
- Yaman Eva novels
Our Purpose
Baazar of Novels strives to provide passionate readers with top-notch Urdu literature, offering a handpicked collection of short Urdu novels, long Urdu novels, and digest novels in Urdu. We believe that a well-crafted story has the power to influence hearts and minds differently for each individual. That’s why we choose online novels that not only spark the imagination but also reflect maturity, depth, and cultural richness.
Our Commitment
We maintain high standards for the quality of all the Urdu novels PDF we share. Every complete Urdu novel on our website is carefully reviewed by our team of dedicated readers to ensure a refined and enjoyable reading experience. As a trusted source of website based Urdu novels, we aim to give you the confidence that you are reading something truly worthwhile.
What Sets Us Apart
Unlike many platforms, we do not promote vulgar or explicit material. Our aim is to provide meaningful, engaging, and clean romantic Urdu novels that touch on social issues, love, and values. Our dedication to preserving the beauty of Urdu literature makes Baazar of Novels a reliable and inspiring space for readers looking for genuine Urdu online novels.
Join Our Community
Whether you’re a fan of short stories, long novels, or classic digest novels in Urdu, we invite you to become part of our growing community. From online novels to Urdu novels 2025, we offer a rich collection suitable for both new and experienced readers. Discover the magic of words through our carefully selected free Urdu novels download collection.
Conclusion
We’d love to hear from you. Kindly leave your valuable feedback in the comments below. And don’t forget to share Baazar of Novels on platforms like Facebook, WhatsApp, and Pinterest. Help us spread the love for Urdu novels, digests, and poetry. With your support, we’ll continue publishing quality content and promote a stronger connection with Urdu literature.
Join us in redefining expectations and celebrating Urdu storytelling with Baazar of Novels.




