”اشوع، میں تمہیں اپنے دل کے قریب ایسے سنبھال کر رکھوں گا جیسے چاند رات کو ستاروں کے درمیان چمکتا ہے۔ یہ فاصلے ہماری محبت کو کمزور نہیں کریں گے، بلکہ اسے اور مضبوط کریں گے۔“ انس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا خوبصورت لاکٹ نکالا۔ 
”یہ دیکھو، اشوع۔ یہ لاکٹ ہمیشہ تمہارے قریب رہے گا، اور جب بھی تم اسے دیکھو گی، تمہیں میری محبت کا احساس ہوگا۔“ اشوع نے لاکٹ تھام لیا اور اسے قریب سے دیکھا۔ اس کے اندر ایک تصویر تھی، ان دونوں کی ایک ساتھ۔ ”یہ بہت خوبصورت ہے، انس۔“ انس نے مسکراتے ہوئے کہا، 
”یہ میری محبت کی نشانی ہے۔ جب تمہیں میری یاد آئے، تو اسے تھام لینا، اور مجھے محسوس کرنا۔“ اشوع نے جذباتی لہجے میں کہا، ”انس، آپ نے مجھے زندگی میں جو سکون دیا ہے، اس کے بغیر رہنا بہت مشکل ہوگا لیکن میں وعدہ کرتی ہوں کہ آپکی غیر موجودگی میں بھی میں آپکی محبت کو اپنی طاقت بناؤں گی۔“ 
صبح ہونے تک انس نے اشوع کا ہاتھ تھاما رہا۔ 
”اشوع، میں چاہتا ہوں کہ تم ہمیشہ خوش رہو۔ میں تمہارے لیے جلد واپس آؤں گا۔“ اشوع نے نم آنکھوں سے کہا، 
”انس، آپ جا رہے ہیں، لیکن میرا دل ہمیشہ آپکے ساتھ ہوگا۔“ انس نے اسے اپنی بانہوں میں لے کر گلے سے لگایا۔ 
”یہ فاصلے ہمیں الگ نہیں کر سکتے، اشوع۔ یہ محبت ابدی ہے، اور یہ انتظار جلد ختم ہو جائے گا۔“ 
رخصتی کے وقت انس کی گاڑی دور ہوتی جا رہی تھی، اور اشوع دروازے پر کھڑی اس وقت کو دیکھ رہی تھی جب وہ دوبارہ ایک دوسرے کے قریب ہوں گے۔ اس کے دل میں امید اور محبت کا ایک نیا عزم جگ گیا تھا۔